Ukrainian foreign minister to arrive in Islamabad tomorrow ‏یوکرین کے وزیر خارجہ کل اسلام آباد پہنچیں گے‏

‏یوکرین کے وزیر خارجہ کل اسلام آباد پہنچیں گے‏

‏وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کریں گے۔‏

‏ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یوکرین کے وزیر خارجہ دمترو کلیبا 20 جولائی کو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔‏

‏یوکرین کے وزیر خارجہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے بھی تفصیلی بات چیت کریں گے۔‏

‏ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور یوکرین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں قریبی اور خوشگوار تعلقات ہیں۔‏

‏وزیر خارجہ کلیبہ کا یہ دورہ 20 جولائی کو ان کی آمد کے بعد شروع ہوگا اور 21 جولائی کو اختتام پذیر ہوگا، 1993 میں پاکستان اور یوکرین کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد یوکرین کی طرف سے پہلا وزارتی دورہ ہے۔‏

‏بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ توقع ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔‏

‏گزشتہ ہفتے ‏‏دی نیوز نے‏‏ کلیبہ کے اسلام آباد کے ‘ہنگامی’ دورے کے بارے میں خبر شائع کی تھی۔‏

‏ذرائع کے مطابق پاکستان اور یوکرین کے وزرائے خارجہ روس یوکرین جنگ کے تناظر میں خوراک کے بحران پر تبادلہ خیال کریں گے۔‏

‏دریں اثناء سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان روس یوکرین جنگ کا خاتمہ اور تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے۔‏

‏یوکرین روس جنگ میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟‏

‏اسلام آباد روس یوکرین جنگ پر غیر جانبدار موقف رکھتا ہے کیونکہ اس نے جنگ زدہ ملک میں انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، لیکن کبھی بھی روس کی کھل کر مذمت نہیں کی۔‏

‏پاکستان نے متعدد بار روس کے خلاف اقوام متحدہ میں ووٹ نگ میں حصہ نہیں لیا اور یوکرین سے فوجیوں کے انخلا کے مطالبے کی حمایت طلب کی۔‏

‏گزشتہ سال وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے روس یوکرین تنازع پر پاکستان کی غیر جانبداری کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد کسی کا ساتھ نہیں دے رہا۔‏

‏الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا، “ہم کسی کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ ہم بیمار ہیں اور جنگوں اور تنازعات سے تھک چکے ہیں۔‏

‏بعد ازاں اسی ماہ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان نے اس معاملے پر ‘اصولی موقف’ اختیار کیا ہے، جسے بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کے لیے ایک بڑے سفارتی امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‏

‏ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم امریکا اور چین سمیت تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ وسیع البنیاد، معروضی، متوازن اور باہمی فائدہ مند تعلقات کے خواہاں ہیں۔‏

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *