Pakistan coalition government decides to dissolve Parliament on August 8 ‏پاکستان کی مخلوط حکومت کا 8 اگست کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ‏

‏پاکستان کی مخلوط حکومت کا 8 اگست کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ‏

‏اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 19 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر اتفاق کرلیا۔ ‏

‏تاہم وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کی تحلیل کی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔‏

‏تحلیل کی تاریخ کا فیصلہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور دیگر اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی تاریخ کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ ‏ ‏جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق موجودہ قومی اسمبلی کی پانچ سالہ آئینی مدت 12 اگست کی نصف شب کو ختم ہو رہی ہے جس تاریخ کو دونوں جماعتوں نے مبینہ طور پر مقننہ تحلیل کرنے پر اتفاق کیا ہے‏

‏، اشاعت کے مطابق ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 9 اور 10 اگست کو بھی بات چیت ہوئی، تاہم بعد میں اسمبلی کی جلد تحلیل میں کسی رکاوٹ سے بچنے کے لیے 8 اگست کو اتفاق رائے کا فیصلہ کیا گیا۔ ‏ ‏آئین کے آرٹیکل 48 کے مطابق اگر صدر نے سمری منظور نہیں کی تو اسمبلی 224 گھنٹوں کے بعد تحلیل ہو جاتی ہے جس سے حکومت کو قبل از وقت تحلیل کرنے کے اپنے مقصد کے حصول کے لیے کافی وقت مل جاتا ہے، آئین کے آرٹیکل  میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے لیے عام انتخابات اس دن کے فوری بعد ساٹھ دن کے اندر کرائے جائیں گے جس دن اسمبلی کی مدت مقرر ہے۔ ‏

‏ جب تک اسمبلی جلد تحلیل نہ ہو جائے اس کی مدت ختم نہ ہو جائے۔‏ ‏تاہم آئین کے آرٹیکل 224 (2) کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) 90 دن کے اندر عام انتخابات کرانے کا پابند ہے اگر اسمبلی اپنی آئینی مدت سے قبل تحلیل ہوجاتی ہے۔ ‏

‏اس کے علاوہ حال ہی میں ایک تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ “اگلے ماہ ہماری حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ ہم اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے چلے جائیں گے اور عبوری حکومت آئے گی۔ ‏ ‏مزید برآں پیپلز پارٹی نے اس سے قبل تجویز پیش کی تھی کہ اسمبلی کو اس کی آئینی مدت سے پہلے تحلیل کر دیا جائے۔‏

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *