City admin spins into action after rains again wreak havoc across Lahore لاہور میں بارشوں نے تباہی مچادی، سٹی انتظامیہ حرکت میں آگئی

لاہور میں بارشوں نے تباہی مچادی، سٹی انتظامیہ حرکت میں آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر لاہور میں مون سون بارشوں کے وقفے وقفے سے ہونے والے سلسلے کے پیش نظر ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہری انتظامیہ کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں بادل پھٹنے سے شہر بھر میں سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے جس کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔

شہریوں نے صوبائی دارالحکومت میں بارش کے پانی سے بھری گلیوں اور سڑکوں پر پانی بھر دیا۔

پنجاب کے واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کا کہنا ہے کہ لاہور کے علاقے گلشن راوی میں سب سے زیادہ 201 ملی میٹر تک بارش ہوئی۔

ایئر پورٹ میں 195 ملی میٹر، تاج پورہ ایس ڈی او آفس کے علاقے میں 193 ملی میٹر اور نشتر ٹاؤن میں 190 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے 70 فیڈرز ٹرپ ہوگئے جس کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

ترجمان لیسکو کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی بحال کرنے کا کام جلد شروع کردیا جائے گا۔

نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بارش کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

انہوں نے شہری انتظامیہ اور واسا کو ہدایت کی کہ وہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بارش کے پانی کی جلد نکاسی کریں۔

نقوی نے حکام کو شہر میں نصب ڈی واٹرنگ پمپوں کی تعداد بڑھانے اور شہریوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے فیلڈ میں رہنے کا بھی حکم دیا۔

مزید برآں انہوں نے ٹریفک کو بغیر کسی رکاوٹ کے رواں دواں رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کا بھی حکم دیا۔

جمعہ کے روز محکمہ موسمیات نے کہا کہ مون سون کی لہریں خلیج بنگال سے ملک میں مسلسل داخل ہو رہی ہیں۔

ایک مغربی ٹرف ملک کے بالائی حصوں کو بھی متاثر کر رہا ہے جو آئندہ چند دنوں کے دوران بھی برقرار رہ سکتا ہے۔

رپورٹ میں لاہور اور ملک کے دیگر بالائی علاقوں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا بھی انتباہ دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *